نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ جب منافع میں شرکت کاعقداس طور پرہوکہ ایک شریک کی طرف سے صرف مال ہواور دوسرے کی طرف سے محض کام ہو،اس طرح معاملہ(کاروبار) کرنا شریعت مطہرہ میں عقد مضاربت کہلاتاہےاور عقدِ مضاربت کی صحت کےشرائط میں سے یہ بھی شرط ہے کہ سرمایہ اور کاروبار حلال ہونے کےبعدمنافع کی تقسیم حقیقی نفع کے تناسب سے طے ہو، اگر کسی ایک کے لیے معین رقم یا سرمایہ کے تناسب سے پہلے سے نفع طے کرے(یعنی کل سرمایہ کا اتنا فیصد ملے گا) تو مضاربت جائز نہیں ہوگی،اسی طرح اگر عقد مضاربت میں نقصان ہوگیا تواس کو پہلے حاصل شدہ نفع سے پورا کیا جائے گا، اگر اس سے بڑھ گیا تو وہ رب المال کے ذمہ ہوگا اور اصل سرمایہ سے پورا کیا جائے گا، مضارب کو نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا جائز نہیں، بلکہ نقصان کی صورت میں سرمایہ کار نقصان برداشت کرے گا اور مضارب کی محنت رائیگاں جائے گی، مضارب امین کی حیثیت سے کام کرے گا۔لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ معاملہ دو وجوہ سے درست نہیں ہے :1۔ رب المال (انویسٹمنت کےلئے پیسے دینے والا)اپنے لئے متعین نفع(پندرہ سے بیس ہزار )کی شرط لگارہاہے،ہوسکتاہے کہ سرمایہ سے کل نفع ہی پندرہ ،بیس ہزار نہ ہو ۔2۔رب المال نقصان کاسارا بوجھ مضارب پر ڈال رہاہے،حالانکہ وہ امین ہوتا ہے۔
تاہم درست صورت یہ ہوسکتی ہےکہ دونوں عاقدین آپس میں سرمایہ( انویسٹمنٹ ) سے حاصل شدہ منافع کی تقسیم فیصد کے اعتبار سے طے کرلیں ،پھر چاہےنفع کم ہو یا زیادہ ،اس طے شدہ فیصد سے آپس میں تقسیم کرليا كرے۔نقصان کا ذمہ دار مضارب کو نہ ٹھرایا جائے،بلکہ نقصان ہونے کی صورت میں اس کا تدارک سب سے پہلے سرمایہ( انویسٹمنٹ ) کے حاصل شدہ منافع سے کیاجائے،اوراگر اس سے بھی بڑھ جائےتب اصل سرمایہ سے کیاجائے گا،مضارب پر نقصان عائد کرنادرست نہیں ،البتہ اگر نقصان مضارب کی تعدی اور کوتاہی سےہوجائےتواس صورت میں مضارب ضامن ہوگا۔
مختصرالقدوري:
المضاربة:عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الشريكين وعمل من الآخر....وماهلك من مال المضاربة:فهو من الربح دون رأس المال،فإن زاد الهالك على الربح:فلا ضمان على المضارب فيه.
(كتاب المضاربة،440/1،ط:البشری)
الفتاوى الهندية:
وأما شرائطها الصحيحة فكثيرة (ومنها)أن يكون نصيب المضارب من الربح معلوما على وجه لا تنقطع به الشركة في الربح كذا في المحيط. فإن قال على أن لك من الربح مائة درهم أو شرط مع النصف أو الثلث عشرة دراهم لا تصح المضاربة كذا في محيط السرخسي.... (ومنها) أن يكون المشروط للمضارب مشروطا من الربح لا من رأس المال حتى لو شرط شيئا من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت المضاربة كذا في محيط السرخسي.
(تفسير المضاربة،285/4،ط:دارالفکر)
مجمع الأنهر:
(وَإِنْ خَالَفَ) الْمُضَارِبُ شَرْطَ رَبِّ الْمَالِ (فَغَاصِبٌ) وَلَوْ أَجَازَ بَعْدَهُ؛ لِوُجُودِ التَّعَدِّي مِنْهُ عَلَى مَالِ غَيْرِهِ فَصَارَ غَاصِبًا، فَيَضْمَنُ، وَبِهِ قَالَتْ الْأَئِمَّةُ الثَّلَاثَةُ وَأَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ.
(كتاب المضاربة،322/2،ط:دارإحياء التراث العربي)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔