نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںسوال میں ذکر کردہ پہلے جملے: "میں نماز نہیں پڑھتا " سے کہنے والا کافر تو نہیں ہوا(بشرطیکہ اس سے مقصود نماز کی فرضیت کاانکار نہ ہو)تاہم کسی مسلمان کو شعائرِ اسلام کے متعلق اس طرح کے نامناسب الفاط نہیں کہنا چاہئے، جن سے شعائرِ اسلام کی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔ اور سوال میں ذکردہ دوسرا جملہ "میں کفر میں داخل ہوجاؤ ،یاکافرہوجاؤ" اگر واقعتا مذکورہ شخص نے اپنے اختیار سے کہا ہے تو ایسے شخص کے لیے توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ تجدیدایمان اورشرعی گواہوں (دو عاقل بالغ مرد،یاایک مرد اور دوعورتوں)کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرنا بھی ضروری ہے، اور آئندہ کے لیے اس قسم کے الفاظ سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
الفتاوى التاتارخانية:
وفی الیتیمة:سئل عن قول الرجل لآخر:لا تقل هذا فإنك تصير كافرا،فقال:دعني أصير كافرا فقال:هو رضا بالكفر فيكفر.......قول الرجل لاأصلي يحتمل إربعة أوجه:أحدها:لا أصلي لأني صليت،والثاني:لا أصلي بأمرك ...والثالث:لا أصلي فسقا مجانة فهذة الثلاث ليس بكفر،وقال الناطفي:إذا أطلق فقال:لا أصلي لا يكفر لاحتمال هذه الوجوه.
(كتاب احكام المرتدين،282/7،ط:الإعزازية)
دررالحكام:
وفي المحيط من أتى بلفظة الكفر مع علمه أنها كفر إن كان عن اعتقاد لا شك أنه يكفر، وإن لم يعتقد أو لم يعلم أنها لفظة الكفر ولكن أتى بها عن اختيار فقد كفر عند عامة العلماء ولا يعذر بالجهل.
(صلة الرحم،324/1،ط:دارإحياء الكتب العربية)
الفتاوى الهندية:
ومن أتى بلفظة الكفر، وهو لم يعلم أنها كفر إلا أنه أتى بها عن اختيار يكفر عند عامة العلماء خلافا للبعض، ولا يعذر بالجهل كذا في الخلاصة.
(مطلب في موجبات الكفر،276/2،ط:دارالفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔