نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کسی دوسرےمسلمان کا مال اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا قرآن و حدیث کی رو سے نا جائز و حرام ہے ، قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اے ایمان والوں آپس میں ایک دوسرےکا مال باطل( ناجائز،ناحق) طریقے سے مت کھاؤں۔(النساء29)، سنن کبری للبیہقی کی حدیث ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کا مال اس کے طیب نفس(رضامندی )کے بغیر حلال نہیں۔(166/6)،اور سنن ابوداؤد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:ایک مسلمان کا مال،عزت و آبرو اور اس کا خون دوسرےمسلمان پر حرام ہے،آدمی کےبرا ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ دوسرےمسلمان کو حقیرسمجھے۔(244/7)اور اجیر خاص( جوشخص مخصوص وقت کے لئےمتعین شخص ،ادارہ،کمپنی وغیرہ کا ملازم ہو)اس کا ڈیوٹی کے اوقات میں اپنا ذاتی کام کرنا یا موجر(فیکٹری)کے اجازت کے بغیر کسی دوسرےکا کام کرناشریعت مطہرہ میں نا جائز ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں 1۔ملازم کا فیکٹری سے چھری یا ٹوکہ لے جانا یا گھر سے لاکر فیکٹری میں تیز کرنا جائز نہیں ہےاور ایسا کرنے والا گنہگار ہوگا ، اس پر توبہ استغفارکے ساتھ چھری یا ٹوکہ کی قیمت یا اس کے تیز کرنے کی قیمت فیکٹری میں جمع کرنا ضروری ہے،اور اسی طرح کسی ملازم کا ڈیوٹی کے اوقات میں فیکٹری کی اجازت کے بغیر دوسروں کے لئے چھری،ٹوکہ تیزکرکے دینا جائز نہیں ہے،اس طرح کرنے والا موجر(فیکٹری)کے اوقات کو دوسروں کے لئے استعمال کرنے کی وجہ سے اور نص قرآنی"ولاتعاونوابالاثم والعدوان"(ترجمہ:گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو)کی مخالفت کرنے کی وجہ سےگنہگار ہوگا،اس پربھی خوب توبہ واستغفار ضروری ہے۔تاہم اس چھری اور ٹوکہ سے ذبح کیاہواقربانی کاجانور حلال ہوگا ،قربانی کےجانور کی حلت وحرمت کاتعلق اللہ تعالی کےنام پرذبح کرنےاورنہ کرنےسےہے،چھری یاٹوکہ کی حرمت قربانی میں سرایت نہیں کرتی۔
2۔تمہید میں مذکور دوسرےمسلمان کامال اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے پر قرآنی آیت اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں کسی ملازم کا فیکٹری میں موجود ریل گاڑی بنانے کاسامان اپنی ذاتی ضرورت میں لانا ناجائز و حرام ہوگا،اس سامان کویا اس کی قیمت فیکٹری کوواپس کرنا لازمی اور ضروری ہوگا۔ورنہ آخرت میں اس کا حساب چکھاناہوگا۔
القرآن المجيد:
يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما.
(النساء،الجزء:5،الآية:29)
السنن الكبرى للبيهقي:
عن علي بن زيد، عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه "
(باب من غصب لوحا،166/6،ط: دار الكتب العلمية)
سنن أبي داود:
عن أبي هريرة، قال: قال رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: "كُل المسلمِ على المُسلمِ حرام: مالُهُ، وعِرضُهُ، ودَمُه، حسبُ امرئٍ من الشرِّ أن يحقرِ أخاهُ المُسلم" (1).
(باب في الغيبة،244/7،ط: دار الرسالة العالمية)
البناية شرح الهداية:
لأن التصرف في مال الغير لا يجوز إلا بولاية أو وكالة.... فلو جاز التصرف قبل الكيل ثانيا يلزم التصرف في مال الغير وهو حرام.
(المفاوضة بين العبدين،381/6،ط:دار الكتب العلمية)
الفتاوى الهندية:
وحكم أجير الوحد أنه أمين في قولهم جميعا حتى أن ما هلك من عمله لا ضمان عليه فيه إلا إذا خالف فيه والخلاف أن يأمره بعمل فيعمل غيره فيضمن ما تولد منه حينئذ هكذا في شرح الطحاوي.
(الحدالفاصل بين الأجيرين،499/4،ط:دار الفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔